وہ روح پر قابض ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ! مجھے کسی اور کا ہونے نہیں دیتا
Friday, 24 March 2017
Thursday, 23 March 2017
کل ہمیشہ کی طرح اس نے کہا یہ فون پر میں بہت مصروف ہوں مجھ کو بہت سے کام ہیں اس لیے تم آؤ ملنے میں تو آ سکتی نہیں ہر روایت توڑ کر اس بار میں نے کہہ دیا تم جو ہو مصروف میں بھی بہت مصروف ہوں تم جو ہو مشہور تو میں بھی بہت معروف ہوں تم اگر غمگین ہو میں بھی بہت رنجور ہوں تم تھکن سے چور تو میں بھی تھکن سے چور ہوں جان من ہے وقت میرا بھی بہت ہی قیمتی کچھ پُرانے دوستوں نے ملنے آنا ہے ابھی میں بھی اب فارغ نہیں مجھ کو بھی لاکھوں کام ہیں ورنہ کہنے کو تو سب لمحے تمھارے نام ہیں میری آنکھیں بھی بہت بوجھل ہیں سونا ہے مجھے رتجگوں کے بعد اب نیندوں میں کھونا ہے مجھے میں لہو اپنی اناؤں کا بہا سکتا نہیں تم نہیں آتی تو ملنے میں بھی آ سکتا نہیں اس کو یہ کہہ کر میں نے ریسیور رکھ دیا اور پھر اپنی انا کے پاؤں پے سر رکھ دیا
Tuesday, 21 March 2017
Saturday, 18 March 2017
بڑی مشکل سے سلایا ہے میں نے خود کو اپنی آنکھوں کو تیرے خواب کا لالچ دے کر
کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں
تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں
اک دوست ہے کچاپکا سا
اک جھوٹ ہے آدھا سچا سا
اک خواب ادھورا پورا سا
اک پھول ہے روکھا سوکھا سا
اک سپنا ہے بن سوچا سا
اک اپنا ہے اندیکھا سا
اک رشتہ ہے انجانا سا
حقیقت میں افسانا سا
کچھ پاگل سا دیوانا سا
بس اک بہانا اچھا سا
جیون کا ایسا ساتھی ہے
جو دور ہو تو کچھ پاس نہیں
کوئی تم سے پوچھے کون ہوں میں
تم کہہ دینا کوئی خاص نہیں___!!!!
تجھ پہ پھونکا ہے محبت کا طلسمی منتر
تو مجھے چھوڑ کے جائے گا تو لوٹ آئے گا
Thursday, 2 March 2017
یہی بہتر ہے بُھلا دیں اُس کو یاد رکھا تو مار ڈالے گا