کوئی صورت نکال جینے کی
تهک گیا ہوں سانس لے لے کر...
gads
Wednesday, 6 August 2014
Wednesday, 30 July 2014
Saturday, 19 July 2014
ﮐﺒﮭﯽ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
ﮔﻠﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﺮﻧﺎ
ﺭﻻﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﻟﮍﻧﺎ
ﺳﻨﻮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ
ﮐﺴﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺟﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮞ
ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ
ﮐﺴﯽ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﻮ ﺟﺎﺅﮞ
ﺗﻮ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﺁﻧﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺩِﻻ ﺟﺎﻧﺎ
ﺳﻨﻮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﺟﻨﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮ
ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﻔﻆ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺍﻧﺎ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﻣﺖ ﻻﻧﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﻦ ﺟﺎﻧﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
ﮔﻠﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﺮﻧﺎ
ﺭﻻﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﻟﮍﻧﺎ
ﺳﻨﻮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﮐﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ
ﮐﺴﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﺟﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮞ
ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ
ﮐﺴﯽ ﺷﺐ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﻮ ﺟﺎﺅﮞ
ﺗﻮ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﺁﻧﺎ
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺩِﻻ ﺟﺎﻧﺎ
ﺳﻨﻮ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﺟﻨﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﻮ
ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﻔﻆ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺍﻧﺎ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﻣﺖ ﻻﻧﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﻦ ﺟﺎﻧﺎ
ﮐﺒﮭﯽ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻣﺖ ﮨﻮﻧﺎ
Sunday, 13 July 2014
میں جس کے ظلم و ستم جھیلتا رہا چپ چاپ
مجھے وہ چھوڑ کے کیوں آج یوں چلا چپ چاپ
مجھے وہ چھوڑ کے کیوں آج یوں چلا چپ چاپ
جو ایک عمر سے آنکھوں کی ضو بڑھاتا تھا
وہ عکسِ یار بھی اشکوں میں بہہ گیا چپ چاپ
وہ عکسِ یار بھی اشکوں میں بہہ گیا چپ چاپ
کچھ اس طرح کہ رفیقوں کو بھی خبر نہ ہوئی
پرندہ تھک کے سرِ خاک آ گرا چپ چاپ
پرندہ تھک کے سرِ خاک آ گرا چپ چاپ
گلہ کیا نہ کبھی تجھ سے کوئی شکوہ کیا
اکیلا آگ میں فرقت کی میں جلا چپ چاپ
اکیلا آگ میں فرقت کی میں جلا چپ چاپ
جدا کروں جو میں خود سے تو چیخ اٹھتا ہوں
وہ شخص میرے تصوّر میں یوں بسا چپ چاپ
وہ شخص میرے تصوّر میں یوں بسا چپ چاپ
اسے کہو کہ جو دل میں ہے صاف صاف کہے
جو مجھ کو مار رہا ہےخفا خفا چپ چاپ
جو مجھ کو مار رہا ہےخفا خفا چپ چاپ
Thursday, 3 July 2014
Thursday, 26 June 2014
Tuesday, 24 June 2014
تجھے عشق ہو خدا کرے
کوئی تجھ کو اس سے جدا کرے
تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائیں
تیری آنکھ پُر نم رہا کرے
تو اُس کی باتیں کیا کرے
تو اُس کی باتیں سنا کرے
اُسے دیکھ کے تو رُک پڑے
وہ نظر جھکا کے چلا کرے
تجھے ہجر کی ایسی چھڑی لگے
تو ملن کی ہر پل دُعا کرے
تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر
تو کرچی کرچی چنا کرے
تو نگر نگر پھرا کرے
تو گلی گلی صدا کرے
تیرے سامنے تیرا گھر جلے
تیرا بس چلے نہ بجھا سکے
تیرے دل سے یہی دُعا نکلے
نہ گھر کسی کا جلا کرے
تجھے عشق ہو پھر یقین ہو
اُسے تسبیحوں پہ پڑھا کرے
میں کہوں کہ عشق ڈھونگ ہے
تو نہیں نہیں کیا کرے
تجھے عشق ہو خدا کرے
کوئی تجھ کو اس سے جُدا کرے
کوئی تجھ کو اس سے جدا کرے
تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائیں
تیری آنکھ پُر نم رہا کرے
تو اُس کی باتیں کیا کرے
تو اُس کی باتیں سنا کرے
اُسے دیکھ کے تو رُک پڑے
وہ نظر جھکا کے چلا کرے
تجھے ہجر کی ایسی چھڑی لگے
تو ملن کی ہر پل دُعا کرے
تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر
تو کرچی کرچی چنا کرے
تو نگر نگر پھرا کرے
تو گلی گلی صدا کرے
تیرے سامنے تیرا گھر جلے
تیرا بس چلے نہ بجھا سکے
تیرے دل سے یہی دُعا نکلے
نہ گھر کسی کا جلا کرے
تجھے عشق ہو پھر یقین ہو
اُسے تسبیحوں پہ پڑھا کرے
میں کہوں کہ عشق ڈھونگ ہے
تو نہیں نہیں کیا کرے
تجھے عشق ہو خدا کرے
کوئی تجھ کو اس سے جُدا کرے
Friday, 13 June 2014
Love you So Much
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا...
محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا
محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا
Monday, 9 June 2014
Subscribe to:
Posts (Atom)


