gads

Sunday, 13 July 2014

میں جس کے ظلم و ستم جھیلتا رہا چپ چاپ
مجھے وہ چھوڑ کے کیوں آج یوں چلا چپ چاپ
جو ایک عمر سے آنکھوں کی ضو بڑھاتا تھا
وہ عکسِ یار بھی اشکوں میں بہہ گیا چپ چاپ
کچھ اس طرح کہ رفیقوں کو بھی خبر نہ ہوئی
پرندہ تھک کے سرِ خاک آ گرا چپ چاپ
گلہ کیا نہ کبھی تجھ سے کوئی شکوہ کیا
اکیلا آگ میں فرقت کی میں جلا چپ چاپ
جدا کروں جو میں خود سے تو چیخ اٹھتا ہوں
وہ شخص میرے تصوّر میں یوں بسا چپ چاپ
اسے کہو کہ جو دل میں ہے صاف صاف کہے
جو مجھ کو مار رہا ہےخفا خفا چپ چاپ

Tuesday, 24 June 2014

تجھے عشق ہو خدا کرے
کوئی تجھ کو اس سے جدا کرے
تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائیں
تیری آنکھ پُر نم رہا کرے
تو اُس کی باتیں کیا کرے
تو اُس کی باتیں سنا کرے
اُسے دیکھ کے تو رُک پڑے
وہ نظر جھکا کے چلا کرے
تجھے ہجر کی ایسی چھڑی لگے
تو ملن کی ہر پل دُعا کرے
تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر
تو کرچی کرچی چنا کرے
تو نگر نگر پھرا کرے
تو گلی گلی صدا کرے
تیرے سامنے تیرا گھر جلے
تیرا بس چلے نہ بجھا سکے
تیرے دل سے یہی دُعا نکلے
نہ گھر کسی کا جلا کرے
تجھے عشق ہو پھر یقین ہو
اُسے تسبیحوں پہ پڑھا کرے
میں کہوں کہ عشق ڈھونگ ہے
تو نہیں نہیں کیا کرے
تجھے عشق ہو خدا کرے
کوئی تجھ کو اس سے جُدا کرے

Wednesday, 18 June 2014


یہ تو اک ضد ھے کہ تجھ سے شکایت نہ کروں
ورنہ تجھ سے تو وہ گلے ھیں کہ بس

Monday, 16 June 2014

تو نے دیوانہ بنایا ،، تو میں دیوانہ بنا

اب مجھے هوش کی دنیا میں تماشہ نه بنا

Friday, 13 June 2014

I love you , you are amazing !


Love you So Much

تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا...
محبت بھی ضروری تھی بچھڑنا بھی ضروری تھا

Friday, 6 June 2014


میں تمہیں بُھول چکا ہوں
یہ تم سے کس نے کہا ہے ؟
تم مانو یا نہ مانو
یہ سچ نہیں ہے 
کیوں کہ 
تم دیکھو تو سہی
اور سوچو تو سہی
کہ
مری نظم میں اس وقت
ذکر کس کا چل رہا ہے ؟

Monday, 26 May 2014


بارش، بادل، تم اور میں
خوشبو، موسم، تم اور میں
کالے بادل، رِم جھم بارش
نیلا آنچل، تم اور میں
بہتی ندیاں، گرتا پانی
آنکھیں، آنسو، تم اور میں
پاس کسی دریا کے کوئی
بھیگا جھونپڑ، تم اور میں
دور کہیں کوئل کی کُو کُو
گہرا جنگل، تم اور میں
برکھا رِم جھم گیت سنائے
جُھرمٹ ڈالیں، تم اور میں
دور کہیں چھوٹا سا اک
کچا سا گھر، تم اور میں
کندھا تیرا اور سر میرا
پاگل سی چُپ، تم اور میں

Friday, 23 May 2014



جنھیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر

وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں

Tuesday, 20 May 2014

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ تیرے دوستوں میں ہوں

مجھے سے گریز پا ہے تو ہر راستہ بدل
میں سنگ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں

اے یار خوش دیار تجھے کیا خبر کہ میں 
کب سے اداسیوں کے گھنے جنگل میں ہوں

تو لُوٹ کر بھی اہل تمنا کو خوش نہیں
میں لُٹ کے بھی وفا کے انہیں قافلوں میں ہوں

بدلا نہ میرے بعد بھی مو ضو عِ گفتگو
میں جا چکا ہوں پھر بھی تری محفلوں میں ہوں

مجھ سے بچھڑ کر تو بھی روئے گا عمر بھر 
یہ سوچ لے کہ میں بھی تیری خواہشوں میں ہوں